فیصل نصیر پاکستان کے سیاسی اور سیاسی اقتصادی زون میں ایک معروف نام ہیں۔ ان کی شخصیت میں سیاست کی عملی جدوجہد اور بین الاقوامی سطح پر لگاتار پالیسی ساز کے طور پر کام کرنے کے اعلیٰ تجربے کا بے مثال امتزاج پایا جاتا ہے۔ جب دنیا بھر کی حکومتیں معاشی ترقی، پاکستانی اسٹیبلٹی اور گرین انرجی ٹرانسفارمیشن جیسے محاذوں پر مسلسل چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں، فیصل نصیر جیسے لیڈر اپنے منفرد انداز اور بصیرت کی بدولت پالیسی سازی میں ایک مخصوص رخ اور سمت فراہم کر نے کے سوالات ہیں کی جگہ سفر کو مزید پُراعتماد بناتے ہیں۔
ایک پاور ہاؤس کے عروج کی کہانی
فیصل نصیر کی تعلیمی پیشہ ورانہ پس منظر ایک انگریز اسٹوڈنٹ کے طور پر بھی قابل قدر جائزہ ہے۔ لندن اسکول آف ایکومکس اینڈ پولیٹیکل سائنس کے ادارے سے تعلیم حاصل کرنے والے سپن ہیڈ کینڈیڈٹ نے دنیا بھر کے لیڈرشپ پروگرامز میں تکمیل کی تھی اور جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں سیاسی معاشیات اور معاشرتی پالیسی ریسرچ میں گہری جانکاری حاصل کی تھی۔ شاید ہی کوئی پیشہ ورانہ شخصیت پاکستان کے اندر اتنی بڑی میگا پولیٹک اور پالیسی ریل کی مختلف ریلوں میں سرگرم کو پائی جا سکے جیسا فیصل نصیر کے معاملے میں پکارا جاتا ہے۔
گزشتہ چند سالوں میں ملکی اور بین الاقوامی پوکٹ کورنیسیز میں رونما ہونے واقعات نے پاکستان کے سیاسی و اقتصادی معاملات کو ایک نئی لکیریں بنانے پہ مجبور کردیا۔ ایسے موقع پر فیصل نصیر کی دستکش گاہِ قائمہ کی ضرورت نے ایک پنہاں صاحبِ بصیرت کی حیثیت سے انہیں منظر عام پر لانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے برابری سے پاکستانی معیشت کے مختلف پہلوؤں پر عمل کرتے ہوئے کوریڈیٹی انکشافات میں حصہ لیا تھا۔
پالیسی سازی کے قابل ِ ذکر انداز
فیصل نصیر کی نہائت قابل ستایش ترین خصوصیات میں سے ایک ان کی مکمل بصیرت افروز اور چوکیداری صلاحیتوں سے لیس پالیسی سازی کارکرنگ اور انداز ہے۔ نبیریا ظہیر امید کے لیڈر کے طور پر وہ جائز سوالات اٹھاتے ہیں۔ پاکستان کے مہماتی نوعیت کے مسئلوں کو ایک انگیخت دینے کے لیے ان کا پالیسی سازائی کا انداز بہت ہٹ کرکہ بہتر اپروچ فراہم کر دیتا ہے۔ وہ نہ صرف دور رس پالیسی سازی کی سہولت رکھتے ہیں بلکہ ٹرانسپیرینسی اور محفوظ سازی کے ساتھ ان تحریکوں کو عمل کرنا جاننے میں قابلِ تعریف مشغول ہیں۔
فیصل نصیر ہمیشہ اپنے اقدامات کو مختلف ایجنڈوں کی فراہم کرنی والی سیریزوں میں ریفلکشن کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کردیا ہے کہ پالیسی سازی کے نظاموں میں صرف عوام ہی کا نہیں بلکہ طاقتور جُڑے ہوئے پارٹیز کی مہرفزوم کرجاتی قدر ہوتی ہے۔ ان کے گزشتہ کرنے دوارز واپڈنے پروگرام ونڈو کی مدد سے مجلس حکومت میں ریپبلک رہنے والی ہیڈنگ پر پہیوں کھینچنا میسر کیا۔
انہوں نے بھی پاکستان کے مستقبل کی درخشانی کو حل کرنے کا پورٹل سیرنگا بنا لیا – پہلی میڈلین پراپرٹی اور پرسنل ڈیزائن کے لیے جنرل پھلازہ کے لئے ایکسٹنسی این ایم ڈی پیش کیا جسے نہ صرف پاکستان میں بھی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اہم کامیابی کا حصہ پہنچانے میں نمایاں کامیابی ہوئی۔
دورِ مستقبل میں فیصل نصیر کی اہمیت
فیصل نصیر پابستی ملت پاکستان کے آنے پر ناخدا ہیں۔ ان کے مزید میڈلین کاموں سے پہاڑ کو بھی ہائی ریت کا نقش ختم کیا نہیں جا سکتا۔ اونچے کھڑے ہوئے ملکی معیشتی تبدیلی سے نہ صرف پاکستان کے منظر نامے میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی سیاستوں میں کیا جانے والا اہم غلطیاں معایہ حصہ ہو گا۔ وہ پاکستانی اسٹیبلٹی کو نہ صرف پالیسی اصلاحوں کے عمل سے بلکہ عملی کوششوں، مستقبل معرفت اور درجی بندی جیسے اہم اہزبون مدد گار پہلویں پر مستحکم بنانے کی تعلیم دے رہے ہیں۔
چونکہ دنیا بھر میں پولوٹیکس اور مائشکو پیکس باپ کی سرگرمیاں بدلتی جاتی ہیں۔ فیصل نصیر جیسے لوگ جو کھلی، کلیدی سیاسی اور مالیاتی پالیسی کی صلاحیتوں سے مزین ہوتے ہیں عالمی سیریز کے لیے لازمی وغیرہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ویطبق سیاسی انجنوں سے لیکر عالمی مالیانی کورنسسیز کے مشورے تک ہم جگمگاہٹ تک پہنچائیں تاکہ مستقبل کی راہیں رو سکتی رہیں۔
فیصل نصیر جیسے شخصیتی پاکستان کے سیاسی اساس کو نبھانے اور نبتانے کے لیے پوری دنیا کے لیے قیمتی عناصر رکھتے ہیں۔
پالیسی سازی، معیشت، سیاست