پٹرولیم مصنوعات وہ متنوع اشیاء ہیں جو کچا تیل یا قدرتی گیس کی فراوری سے حاصل ہوتی ہیں۔ زمین کی گہرائیوں سے نکالا گیا خام تیل اپنی خام حالت میں براہ راست استعمال نہیں ہو سکتا، اس لیے اسے ریفائنریوں میں کیمیائی عمل سے گزارا جاتا ہے۔ اس طرح حاصل ہونے والی اشیاء بنیادی طور پر ہائیڈروکاربن مرکبات پر مشتمل ہوتی ہیں جن کی ساخت انہیں ایندھن، لوبریکنٹ اور صنعتی خام مال بناتی ہے۔
سب سے زیادہ استعمال ہونے والی پٹرولیم مصنوعات میں ایندھن کی مختلف اقسام شامل ہیں۔ پٹرول عام گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کی کارکردگی کو ظاہر کرنے کے لیے اکتین ریٹنگ کا تصور استعمال ہوتا ہے۔ ڈیزل بھاری گاڑیوں، ٹریکٹروں اور جنریٹرز کا ایندھن ہے۔ ہوائی جہازوں کے لیے جیٹ فیول تیار کیا جاتا ہے جو اپنی خصوصیات میں عام پٹرول سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مٹی کا تیل روشنی اور پکانے کے لیے اب بھی دیہی علاقوں میں کام آتا ہے۔
لوہے اور مشینوں کو زنگ لگنے اور رگڑ سے بچانے کے لیے لوبریکنٹس یعنی چکنا مادہ استعمال ہوتا ہے۔ انجن آئل، گریس اور صنعتی تیل مشینری کی کارکردگی بڑھاتے ہیں۔ یہ پٹرولیم مصنوعات کا وہ حصہ ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتیں مگر صنعتی پہیے کو رواں رکھنے میں اہم ہیں۔
گھریلو اور صنعتی دونوں مقاصد کے لیے لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس یا ایل پی جی ایک اہم مصنوع ہے۔ یہ گیس کو دبا کر مائع حالت میں محفوظ کی جاتی ہے اور کھانا پکانے اور حرارت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اسی طرح نیفتھتھا ایک ہلکا مادہ ہے جو کیمیائی صنعت میں خام مال کے طور پر کام آتا ہے۔
پیٹروکیمیکلز کا زمرہ پٹرولیم مصنوعات کا سب سے وسیع حصہ ہے۔ ان سے پلاسٹک، ریشے، ادویات اور کھادیں بنتی ہیں۔ روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والا زیادہ تر پلاسٹک اسی ذریعے سے حاصل ہوتا ہے۔ پارافین موم جو کینڈل، کاسمیٹکس اور میچوں میں استعمال ہوتا ہے، بھی ریفائنری کا ایک تحفہ ہے۔
تعمیرات میں اسفالٹ یا بلیک ٹاپ سڑکوں کی سطح کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ پٹرولیم کی بھاری بچی ہوئی شکل ہے جو پانی کو روکتی ہے اور سڑک کو مضبوطی دیتی ہے۔ پینٹ، وارنش اور صفائی کے محلول (سالونٹس) بھی پٹرولیم مصنوعات سے حاصل ہوتے ہیں جن سے دیواروں کی حفاظت اور صفائی ممکن ہوتی ہے۔
ریفائنری میں خام تیل کو گرم کر کے فریکشنل ڈسٹلیشن کے ذریعے الگ کیا جاتا ہے۔ ہر جزو اپنے کھلنے کے درجہ حرارت پر الگ ہوتا ہے۔ اس کے بعد کیمیائی اصلاح سے انہیں ماحولیاتی معیار اور انجن کی ضرورت کے مطابق بنایا جاتا ہے۔ اس عمل میں حفاظتی اقدامات انتہائی ضروری ہیں کیونکہ یہ مواد آتش گیر ہوتے ہیں۔
ان مصنوعات کی نقل و حمل اور ذخیرہ سازی کے لیے مخصوص ٹینکر اور گودام استعمال ہوتے ہیں تاکہ کوئی حادثہ نہ ہو۔ آتش گیر مادے ہونے کے باعث حفاظتی ضوابط کا پاس رکھنا قانونی اور اخلاقی دونوں لحاظ سے ضروری ہے۔ صنعتی اور گھریلو سطح پر احتیاط سے ہی ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ، خام تیل کی دستیابی اور فراوری کے اخراجات سے متاثر ہوتا ہے۔ صارفین کو مختلف مصنوعات کی خصوصیات سمجھنا چاہیے تاکہ وہ درست استعمال کر سکیں۔ مثال کے طور پر غلط عدد والا پٹرول انجن کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ لوبریکنٹ کی بروقت تبدیلی مشین کی عمر بڑھاتی ہے۔
ماحولیاتی آلودگی کے پیش نظر ان مصنوعات کے بہتر استعمال اور متبادل توانائی پر کام ہو رہا ہے۔ استعمال شدہ تیل کی ری سائیکلنگ سے نئے لوبریکنٹ بنائے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح ایندھن کے جلنے سے پیدا ہونے والی گیسز کو کم کرنے کے لیے انجن ٹیکنالوجی بہتر کی جا رہی ہے۔
زراعت، صحت، مواصلات اور تعمیرات ہر شعبہ پٹرولیم مصنوعات کا کسی نہ کسی طور ممنون ہے۔ ٹریکٹر سے لے کر اسپتال کے پلاسٹک آلات تک یہ سلسلہ پھیلا ہوا ہے۔ اس لیے ان مصنوعات کی اہمیت کو سمجھنا اور انہیں ضیاع سے بچانا وقت کی ضرورت ہے۔ منصوبہ بندی سے استعمال اور حفاظتی اصولوں پر عمل کر کے ہم ان سے بہتر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات: اقسام، استعمالات اور معاشی اہمیت
Source: HotArticle
Original link: https://www.hotarticle24.com/nl3oxf7n